63

بطخ جیسے جانور کا دودھ، سخت جان بیکٹیریا کا نیا قاتل

سڈتی: جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے بیکٹیریا جو موجودہ اینٹی بایوٹک دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کرچکے ہیں، اُن کا قلع قمع کرنے کےلیے ’’پلیٹی پس‘‘ نامی ایک جانور کا دودھ نہایت مفید و کارآمد ثابت ہوسکتا ہے؛ اور روایتی اینٹی بایوٹکس کی جگہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

انسانی جسم میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جرثوموں کے باعث مختلف انفیکشنز کے علاج میں دشواری کا سامنا ہے۔ تاہم جدید تحقیق نے سے اس مسئلے کے حل کی ایک اور امید پیدا ہوئی ہے۔ آسٹریلیا میں ہونے والی ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ پلیٹی پس کے دودھ میں موجود پروٹین کی زنجیر، انفیکشن کے خلاف لڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، بالخصوص بیماری کا سبب بننے والے ایسے جرثوموں کا خاتمہ کرنے میں کہ جنہوں نے اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرلی ہو۔

واضح رہے کہ پلیٹی پس (platypus) ایک ایسا جانور ہے جس کی چونچ بطخ جیسی ہوتی ہے اور وہ پرندوں کی طرح انڈے بھی دیتا ہے لیکن اپنے بچوں کو دودھ بھی پلاتا ہے۔ مادہ پلیٹی پس اپنے شیرخوار بچوں کے گرد دودھ کے قطرے بھی چھوڑ دیتی ہے جو انہیں بیکٹیریا کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
اسی منفرد خاصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آسٹریلیا کی ’’کامن ویلتھ سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن‘‘ (سی ایس آئی آر او) سے وابستہ سائنسدانوں نے 2010 میں پلیٹی پس کے دودھ پر تحقیقات کا آغاز کیا؛ اور مسلسل 8 سالہ تحقیق کے بعد یہ دریافت کیا کہ پلیٹی پس کے دودھ میں کئی اقسام کے بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیفائیلو کوکس اوریئس قسم کے سخت جان جرثوموں تک کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ بیکٹیریا کی یہ قسم جسے طبی لٹریچر میں ’’ایم آر ایس اے‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کرچکی ہے اس لیے ادویہ بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ پلیٹی پس کے دودھ میں اسٹیفائیلو کوکس اوریئس کو ختم کرنے کی صلاحیت خاصی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔ اسٹیفائیلو کوکس انسانی جسم کے نظام تنفس کے بالائی حصوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ انسانی جسم کی بیرونی جلد، معدے اور آنتوں کی اندورنی جھلی میں بھی سوزش پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جس کے علاج کےلیے اینٹی بایوٹکس دستیاب تو ہیں لیکن یہ جراثیم ان دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کرچکے ہیں۔
اس دریافت کی تفصیلات تحقیقی جریدے ’’اسٹرکچرل بائیالوجی کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں