48

پلاسٹک کھانے والا ’نیا‘ اینزائم دریافت کرلیا گیا

لندن: 2016 میں جاپانی ماہرین نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایک جرثومے (بیکٹیریا) میں ایسا خامرہ (اینزائم) دریافت کرلیا ہے جو پلاسٹک کی سب سے عام قسم ’پولی ایتھائلین ٹیرفتھیلیٹ‘ یا ’پی ای ٹی پلاسٹک‘ کو تلف کرسکتا ہے۔ اب امریکی اور برطانوی ماہرین نے اسی بیکٹیریا پر تحقیق کے دوران اتفاقیہ طور پر ایک تبدیل شدہ اینزائم بنالیا ہے جو اس سے بھی زیادہ مؤثر ہے اور بہت تیزی سے پلاسٹک کو ’کھاتا‘ ہے۔

بیکیٹریا میں موجود یہ تبدیل شدہ اینزائم انتہائی ماحول دشمن پلاسٹک کی بوتلیں بھی تلف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ، برطانیہ اور نیشنل رینیوایبل انرجی لیبارٹری امریکا نے مشترکہ طور پر اس اینزائم پر مطالعے کےلیے طاقتور ایکسرے ڈالی تو اینزائم نے اپنی ساخت بدل لی اور پہلے سے زیادہ مؤثر ہوگیا۔

اس پر کام کرنے والے ماہر جان مک گیہان کہتے ہیں کہ سائنسی تاریخ اتفاقیہ دریافتوں سے بھری ہوئی ہے اور ہم نے اچانک اس اینزائم کو بہتر بنایا ہے جو دنیا بھر میں موجود پلاسٹک کے پہاڑ کو کم کرسکتا ہے۔ اس اہم تحقیق کی تفصیلات جرنل پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس تحقیق کے بعد اگلے چند برس میں پی ای ٹی کو اس اینزائم سے اس کے بنیادی اجزا میں توڑا جاسکتا ہے اور پھر اسے بہتر طور پر ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے جو زیادہ ماحول دوست طریقہ ہوگا۔

اس وقت پلاسٹک کی آلودگی پوری دنیا کےلیے درد سر بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ پلاسٹک کچرا سمندروں میں ہر جگہ پھیل کر ماحول اور جانوروں کو ہلاک کررہا ہے۔ ہر منٹ میں پوری دنیا میں پلاسٹک کی 10 لاکھ بوتلیں پھینکی جاتی ہیں جو پی ای ٹی سے بنی ہوتی ہیں۔ پی ای ٹی کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو اسے ختم ہونے میں 400 سال لگتے ہیں۔ اس دوران یہ ٹوٹ پھوٹ کر مزید باریک ہوتی جاتی ہیں۔ دوسری جانب ہر سال سمندروں میں 80 لاکھ ٹن پلاسٹک جمع ہورہا ہے۔

دنیا بھر میں پیدا ہونے والے پلاسٹک کی صرف 7 فیصد مقدار ہی ری سائیکل کی جارہی ہے۔ مشروب ساز کمپنیاں بھی ہر سال لاکھوں کروڑوں پلاسٹک کی بوتلوں میں سافٹ ڈرنکس اور مشروبات بھر کر فروخت کرتی ہیں لیکن ان کی بہت ہی کم مقدار کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب صنعتی بایو ٹیکنالوجی کے ایک ماہر وِم سویٹارٹ نے کہا ہے کہ یہ اینزائم قدرتی حالت میں نہیں پایا جاتا اور اس کی بڑے پیمانے پر تیاری سب سے اہم اور پہلا قدم ہوگا۔ پھر اینزائم بہت سست رفتار سے کام کرتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ازخود تلف ہونے والے ماحول دوست پلاسٹک پر توجہ مرکوز کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں