40

زلزلہ متاثرین کیلئے جمع غیر ملکی فنڈز کہاں گئے؟ چیف جسٹس

اسلام آباد/ بالاکوٹ: چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کیلئے جمع غیر ملکی فنڈز کہاں گئے؟ کیا رقم قومی خزانے میں ڈالی گئی؟

چیف جسٹس کے استفسار پر وزارتِ خزانہ کے نمائندہ نے بتایا کہ زلزلہ متاثرین کیلئے بیرون ملک سے دو ارب 89 کروڑ ڈالر امداد آئی لیکن پاکستان سے اکٹھی ہونے والی امداد کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم ہونا چاہیے کہ امداد میں مجموعی طور پر کتنا پیسہ جمع ہوا؟ ایرا میں چاچے مامے اور دوسرے رشتہ دار بھرتی کئے گئے۔ متاثرین کیلئے بیرونی امداد کسی دوسری جگہ استعمال کرنا جرم ہے۔ یہ نیب کیلئے روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کا فٹ کیس ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بالاکوٹ میں ابھی تک لوگ بغیر چھت کے بغیر رہ رہے ہیں۔ ایرا کے نمائندہ نے بتایا وہاں زمین کا قبضہ مل جائے تو دو سال میں منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کیا غریب لوگ دو سال تک کھلے آسمان تلے رہیں گے؟ یہ متعلقہ اداروں کیلئے شرم کا مقام ہے۔ زلزلہ زدگان کیلئے بنائے گئے شیلٹر میں چیئرمین ایرا رہ سکتے ہیں؟ وہ تو بنگلوں میں رہتے ہوں گے۔ چیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو بالا کوٹ پہنچنے کا حکم دیا اور براستہ موٹروے بالا کوٹ روانہ ہو گئے۔

بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار زلزلہ متاثرین کی داد رسی کیلئے بالا کوٹ پہنچے اور جاں بحق افراد کی اجتماعی قبر پر فاتحہ خوانی کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بالا کوٹ میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی اور انہیں بحالی و تعمیر نو کے ساتھ ساتھ مکمل آبادی کاری کا بھی یقین دلایا۔ چیف جسٹس نے مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں کا بھی دورہ کیا۔

زلزلہ متاثرہ علاقوں مانسہرہ اور بالا کوٹ میں متاثرین کی بحالی و تعمیر نو میں تاخیر پر چیف جسٹس ثاقب نثار ایرا کے حکام پر برس پڑے اور ان سے زلزلہ زدگان کے نام پر دنیا بھر سے آنے والی امداد کی تفصیلات مانگی۔ چیف جسٹس زلزلہ متاثرین کی داد رسی کے لئے جب بالا کوٹ پہنچے تو لوگوں نے ان کے حق میں نعرے لگائے۔

چیف جسٹس نے بالا کوٹ ہسپتال کا دورہ کیا اور متعلقہ حکام سے بریفنگ کے دوران پوچھا کہ زلزلے کے 13 سال مکمل ہونے والے ہیں لیکن ضلع مانسہرہ کی سب سے بڑی تحصیل کا ہسپتال ابھی تک تعمیر کیوں نہیں ہوا؟

چیف جسٹس کے سامنے ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ پکی عمارت تو دور کی بات، انہیں زلزلہ مزاحم شلٹر بھی فراہم نہیں کئے گے۔ بالا کوٹ کا سرکاری ہسپتال کرائے کی عمارت میں ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے گورنمنٹ ہائی سکول بالا کوٹ کے صحن میں دفن زلزلے میں شہید طلبہ کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر زلزلہ متاثرین نے شکایات کے انبار لگائے اور بحالی وتعمیر نو کے اداروں کی ناقص کارکردگی پر بھی پھٹ پڑے۔

چیف جسٹس نے زلزلہ متاثرین کو یقین دلایا کہ ان کی داد رسی کی جائے گی اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ دورہ بالا کوٹ کے بعد چیف جسٹس ثاقتب نثار نے مانسہرہ میں زلزلہ متاثرین کے لئے تعمیر کئے گے ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی خیریت بھی معلوم کی۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد روانگی سے قبل ایبٹ آباد میں سرکاری ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں سے ملاقات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں